موبائل پر کسی قسم کا ڈیٹا ڈالنا کسی جھنجھٹ سے کم نہیں۔اس کیلیے آپ کو ڈیٹا کیبل، بلیوٹوتھ ،انفراریڈ۔۔۔ جانے کیاکیاخریدنا پڑتا ہے۔ لیکن اگر کوئی یہ نہ خرید سکے،یا اسے ایمرجنسی میں ڈیٹا موبائل پر منتقل کرنا پڑے تو کیا کرے؟؟؟حسب وعدہ آج اسی مسئلہ کا حل ایک چھوٹے سے سبق کی صورت میں حاضر ہے۔
سب سے پہلے تو اسکے لیے ضروری چیزیں نوٹ کرلیں: جاري رکھيے »
تحارير برائے زمرہ: 'ویب سائٹس' ...
موبائل پر ڈیٹا کا تبادلہ، بغیر تار یا کسی آلہ کے۔۔۔
پير، 25 دسمبر 2006 — موبائل ، ویب سائٹس ، ٹپس/ ٹرکس
Snap PreviewAnywhere۔ویب سائٹس اور بلاگز کیلیے ایک کارآمد ٹول
منگل، 12 دسمبر 2006 — سافٹ وئیرز ، ویب سائٹس
خط دیکھ کر متن سمجھنے کے زمانے لَد گئے۔ اب خط کی جگہ برق رفتار ای میل اور ایس ایم ایس نے لے لی ہے۔ تمہید لمبی کیے بغیر آپ کو بتاتا ہوں کہ مدعا کیاہے۔سرچ انجن میں مقابلہ ایک عرصہ سے گرما گرم موضوع ہے۔ ایسے میں نئے اور چھوٹے سرچ انجن اچھوتے آئیڈیاز کے ساتھ مارکیٹ میں آتے ہیں، کیونکہ روایتی سرچ انجنز کی دوڑ میں انہیں گوگل،یاہو ،ایم ایس این وغیرہ جیسے بڑے ناموں کو پیچھے چھوڑناجوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ایسے ہی ایک اچھوتے آئیڈیا کے ساتھ ایک سرچ انجن’’سنیپ(Snap)‘‘ کافی عرصہ سے مصروف عمل ہے۔اس سرچ انجن میں آپ تلاش کے دوران ظاہر ہونے والی ویب سائٹس پر جائے بغیر ان کا تصویری نظارہ کر سکتے ہیں۔ جاري رکھيے »
موبائل انٹرنیٹ صارفین کیلیے کچھ اچھے سافٹ وئیرز اور ویب سائٹس
اتوار، 3 دسمبر 2006 — سافٹ وئیرز ، موبائل ، ویب سائٹس
اگر آپ ان چار کروڑ پاکستانیوں میں شامل ہیں جو موبائل فون کا استعمال کرتے ہیں، تو قوی امکان ہے کہ آپ جدید موبائل سروسز جیسے موبائل انٹرنیٹ(جی پی آرایس) اور ویپ(wap) بھی استعمال کرتے ہوں گے۔سافٹ ویر بتانے سے پہلے ہم آپ کو اپنے تجربہ سے آگاہ کرتے چلیں وہ یہ کہ اب تو جو ہم نے جتنے بھی موبائل آپریٹرز کی موبائل انٹرنیٹ سروسز استعمال کی ہیں ان میں ٹیلی نار کو سب سے تیز اور کفایتی پایا ہے۔اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف۔سب سے پہلے سافٹ وئیرز: جاري رکھيے »
کچھ مفید ویب سائٹس کا انتخاب
منگل، 21 نومبر 2006 — ویب سائٹس
FREEWARE-HOME:فری ویر سافٹ وئیرز، آپکی آسانی کیلیے زمروں میں تقسیم
PHP-SURVEYOUR:اپنی ویب سائٹ میں سروے کروانے کیلیے ایک آسان اورمفت سکرپٹ
EASY-UBUNTU:اوبنٹو میں انسٹالیشن کرنے کیلیے استعمال میں سہل سکرپٹ
LISTIBLE:ونڈوز کیلیے بالکل مفت آزاد مصدر سافٹ ویرز
ہم دُعا لکھتے رہے۔۔۔
ہفتہ، 18 نومبر 2006 — ویب سائٹس

آپ بھی سوچ رہے ہونگے کہ کسی مراسلے کو اس قسم کا مزاحیہ ادب والا نام دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ تو جناب یہی صورتحال ایک مینوفیکچرنگ کمپنی یونیورسل ٹیوب اینڈ رول فارم ایکوپمنٹ کیساتھ ہے جنکی ویب سائٹ انٹرنیٹ پر www.utube.com کےپتہ سے ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ جیسے آپ جانتے ہیں کہ انٹرنیٹ پر یوٹیوب(www.youtube.com) نامی ایک مشہور ویڈیو شئیرنگ ویب سائٹ ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ لوگ یوٹیوب کی سائٹ پر جانے کیلیے اصل پتہyoutube.com کی بجائے غلطی سے utube.com لکھ دیتے ہیں۔جس کی وجہ سے صورتحال اس وقت یہ ہے کہ یونیورسل ٹیوب والوں کی سائٹ کے زائرین 1500سے بڑھ کر 2 ملین فی ماہ چکے ہیں۔۔نتیجہ؟؟؟ نتیجہ یہ ہے کہ ان کے سرور مہینے کہ شروع ہی میں کریش ہو جاتے ہیں کیونکہ انکے پاس اتنی بینڈوڈتھ نہیں ہوتی کہ وہ یہ ویب ٹریفک برداشت کر سکیں۔ مرے پہ سو درے کے مصداق، اوہائیو کی اس کمپنی کو پولیس کی جانب سے بچوں کے متعلق جنسی ویڈیوز ہوسٹ کرنے کی وارننگز بھی آتی ہیں (یہ شکایت درحقیقت یوٹیوب ویڈیوز کی سائٹ کے متعلق ہے)۔ بہرحال ہرجانہ اور عدالتی کاروائی یوٹیوب ویڈیو کا انتظار کر رہی ہے، یا پھر یوں بھی معاملہ حل ہو سکتا ہے کہ یوٹیوب ویڈیوز اس کمپنی کو اپنا برانڈ تبدیل کرنے کیلیے معاوضہ دے۔ واضح رہے کہ مذکورہ کمپنی نے اپنا ڈومین یوٹیوب ویڈیو کے اجراء سے کافی عرصہ پہلے (1996ء) لیا تھا۔<!–more–>
ایک اور ممکنہ حل یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جس طرح آج کل گوگل (جو یوٹیوب کی نئی مالک ہے) کمپنی پر کمپنی لے رہی ہے تو وہ اس مینوفیکچرنگ کمپنی کو بھی خرید لے۔ اس طرح وہ ویب ٹریفک جو ان کے ڈومین کی طرف جارہی تھی، ضائع نہیں ہوگی۔ بہرحال جو بھی ہو معاملہ ہنوز لٹکا ہوا ہے۔
گوگل نے یوٹیوب(YouTube) کو خرید لیا
بدھ، 11 اکتوبر 2006 — خبرنامہ ، ویب سائٹس ، گوگل
بالاخر کئ دنوں کی چہ مگوئیوں کے بعد گوگل نے ویڈیو شئیرنگ ویب سائٹ یوٹیوب (YouTube) کو ایک اعشاریہ پینسٹھ ارب ڈالر کے عوض خرید لیا۔ گوگل نے اعلان کیا ہے کہ دونوں کمپنیاں اپنی جگہ آزادی سے کام کرینگی یعنی یوٹیوب کو گوگل ویڈیو(گوگل کی ویڈیو شئیرنگ سروس) میں ضم نہیں کیا جائیگا۔ یوٹیوب جسے فروری 2005 میں لانچ کیا گیا بہت جلد ہی انٹرنیٹ پر ایک مقبول ترین سائٹ بن گئی۔اس سائٹ پر روزانہ ایک سو ملین ویڈیوز دیکھی جاتی ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ہر ماہ تقریباً 72ملین انفرادی زائرین اس سائٹ پر آتے ہیں۔گوگل کے چیف ایگزیکٹیو ایرک شمٹ نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا:’’یوٹیوب کی ٹیم نے جو دلچسپ اور زبردست میڈیا پلیٹ فارم بنایا ہے وہ گوگل کے اس نظریے سے مطابقت رکھتا ہے جس کے مطابق دنیا کا تمام معلوماتی ذخیرہ ایک منظم انداز میں رکھا جائے، جہاں سب صارفین کی پہنچ ہو۔‘‘ شمٹ کے مطابق گوگل ویڈیو کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ دونوں کمپنیاں شروع ہی سے قدرتی حلیف تھیں۔
گوگل کے مطابق وہ اپنی ویڈیو شئیرنگ سروس اسی طرح جاری رکھے گا۔ دوسری طرف یوٹیوب کا 67 ارکان پر مشتمل عملہ بشمول اسکے دونوں موجد اپنا کام پرانی ڈگر پر جاری رکھیں گے۔ واضح رہے کہ یہ ڈیل ، یوٹیوب کی یونیورسل میوزک کیساتھ کاپی رائٹ کے متعلق معاہدہ ہو جانے کے ایک دن بعد ہوئی۔ گوگل بھی سونی بی۔ایم۔جی اور وارنر میوزک کے ساتھ صارفین کو میوزک ویڈیوز بیچنے کیلیے ایک معاہدہ کر چکا ہے۔