تحارير برائے زمرہ: 'عمومی مراسلے' ...

108 سالہ بلاگر

Olive Riley

ہم میں سے اکثر بلاگرز (خصوصاً اردو بلاگرز) پہلے بڑے شوق سے بلاگ بنا لیتے ہیں اور پھر کچھ عرصہ بعد بلاگ قصہءِ پارینہ بن جاتا ہے۔ جو کچھ نہ کچھ لکھتے ہیں، وہ بھی بڑی کم ہمتی سے۔ :razz: لیکن آسٹریلیا کی 108 سالہ خاتون Olive Riley اس عمر میں بھی باقاعدگی سے اپنے دوست Mike Rubbo کی مدد سے بلاگنگ کرتی ہیں۔ اب بتائیے۔۔۔بلاگنگ سے بھاگیں گے؟ :lol:

ونڈوز وسٹا کے گرافکس، ونڈوز ایکس پی میں

ونڈوز وسٹا مجموعی طور پر صارفین پر کچھ خاص تاثر نہ چھوڑ سکی لیکن اس کی تھیمز اور دوسرے گرافکس کو ضرور سراہا گیا۔ ہر ایک ونڈوز وسٹا خریدنے کا متحمل نہیں ہو سکتا اور پاکستان میں اسکا ”نسخہ ہائے وسٹا“ بھی نہیں دستیاب۔ :wink: ۔۔۔۔۔پھر بھی جناب فکرمند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، آپ بھی ونڈوز وسٹا کے طرز کے تھیم استعمال کر سکتے ہیں اور وہ بھی بالکل مفت۔

تازہ ترین: یہ تمام تھیمز آپ یہاں سے ایک زپ فائل میں ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ جاري رکھيے »

وائس آف جرمنی: اردو بلاگنگ کے متعلق پروگرام

وائس آف جرمنی اردو سروس نے حال ہی میں اردو بلاگنگ کے سلسلے میں چند اردو بلاگرز(نیبل، نعمان اور مابدولت) سے بات چیت کی جسے انہوں نے ہفتہ کی شب نوجوانوں کے حوالے سے پروگرام میں پیش کیا(شاید انہیں نبیل کی عمر نہیں پتہ تھی :wink: )۔ اگر آپ پروگرام سننے سے محروم رہ گئے تو فکر کی ضرورت نہیں۔ آپ نیچے پلئیر کے زریعے اس پروگرام کی ریکارڈنگ سن سکتے ہیں، جسمیں نبیل بھائی کی چودھریوں جیسی گفتگو، نعمان کی انضمام الحق جیسی آواز اور میری مریل ٹون میں باتیں سن سکتے ہیں۔ :razz:

[audio:http://www.wirepaq.com/blog/wp-content/uploads/DW-Urdu-Bloggers-%20Interviews.mp3]

(ڈاؤن لوڈ کریں)

اردو بلاگنگ نے کچھوے کی چال سے سہی، لیکن بالآخر خود کو منوانا شروع کر دیا ہے۔ اُمید ہے اس قسم کی کوریج سے مزید لوگ اردو بلاگنگ کیطرف آئینگے۔ میری دُعا اور خواہش ہے کہ اردو بلاگنگ مزید پھلے پھولے۔ نبیل بھائی کا بہت بہت شکریہ جن کی بدولت آج اردو بلاگنگ انٹرنیٹ پر اپنا وجود رکھتی ہے۔

اطلاع: ان دوستوں سے معذرت جنہوں نے اپنے رابطہ نمبر مجھے بھیجے لیکن بوجوہ انہیں پروگرام میں شامل نہ کیا جاسکا۔

متعلقہ: وائس آف امریکہ، پاکستانی بلاگرز کا مذاکرہ

”بوریت“ بچاؤ

جیسا کہ قدیر کی تحریر سے آپکو معلوم ہو ہی چکا ہوگا کہ پُرمزاح آن لائن اخبار روزنامہ ”بوریت“ کی اشاعت روک دی گئی ہے۔ بقول شارق مستقیم یہ غم روزگار کیوجہ سےکرنا پڑا۔ لیکن میری طرح کئی قارئین ان سے اتفاق نہيں کرینگے۔ میرا سوال ہے کہ کیا شارق غمِ روزگار کے سلسلے میں کالا پانی جارہے ہیں، جہاں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی رسائی نہیں؟؟؟

بوریت سے میرا تعارف سال پہلے ہوا اور تبھی سے میں اسکا مستقل قاری ہوں۔ میری وجہ سے میرے باس سمیت تمام کولیگ اسکی خبروں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ :smile:

لیکن اب جب یہ خبر پڑھی ہے تو حقیقتاً مجھے بہت دکھ ہوا ہے۔ یہ نہ صرف انٹرنیٹ پر تحریری اردو(تصویری نہیں) کا نقصان ہے بلکہ کئی قارئین کیلیےذہنی تفریح کا ایک ذریعہ بھی چلاگیا۔ تحریری اردو کیلیے شارق کی خدمات قابلِ ذکر ہیں، جنمیں اردوسپورٹ انسٹالر، اردو کیبورڈ ٹیوٹر، ان پیج ٹو یونیکوڈ کنورٹر، اردو جاوا سکرپٹ ایڈیٹر اور دوسری مفید اردو سروسز قابل ذکر ہیں۔

ہمارا صرف ایک ہی مطالبہ ہے۔۔۔۔”بوریت“ کو واپس لاؤ۔ ورنہ ہم ”بوریت بچاؤ“ تحریک شروع کردینگے۔

ایس ایم ایس پر قدغن؟

کل، اتوار کے اخبارات میں ٹیلی کمیونیکیشن کے سرکاری سفید ہاتھی ادارہ پی ٹی اے نے ایک اشتہار شائع کیا۔ جس کے بقول “غیرقانونی” اور ان چاہے ایس ایم ایس بھیجنے والوں “اندر” کیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ غیر قانونی اور دیگر ایس ایم ایس کونسے ہیں؟ زرا اشتہارا ملاحظہ فرمائیے، اور کچھ پلے پڑے تو مجھے بھی بتائیے :sad: :

غیر قنونی ایس ایم ایس

ٹارزن کی واپسی

السلام علیکم،
ایک لمبے عرصہ کے بعد حاضر خدمت ہوں۔ غیر حاضری کی وجوہات مختصراً بی اے کے امتحانات اور سیاست میں دلچسپی جو چیف جسٹس کے واقعہ سے شروع ہوئی اور ابھی تک زوروں پر ہے۔ حالانکہ ہمیں سیاسی معاملات کی کوئی خاص سمجھ بوجھ نہیں ہے۔ ;) ۔۔۔۔چلیے اب آہی گئے ہیں واپس تو اپنا کام اللہ کا نام لیکر شروع کرتے ہیں۔ پہلی تحریر تھوڑی دیر میں شائع کرتا ہوں۔