وائی میکس، اب پاکستان میں

وطین ٹیلی کامروزنامہ ’’ایکسپریس‘‘ کی ایک خبر کے مطابق ابوظہبی گروپ کی ملکیتی کمپنی ’’وطین ٹیلی کام‘‘ جنوری ۲۰۰۷ سے پاکستان میں وائی میکس انٹرنیٹ سروس شروع کر ےگی۔وائی میکس کے زریعے صارفین اپنا ڈیٹا روایتی نیٹ ورکنگ کے برخلاف تاروں کی جھنجھٹ کے بغیر، تیزرفتاری سے ایک سے دوسری جگہ منتقل کر سکیں گے۔ صارفین وائی میکس انٹرنیٹ سے منسلک ہو کر بیک وقت آڈیو(انٹرنیٹ ٹیلیفون یا وی او آئی پی)، وڈیو(وڈیو کانفرنسنگ، ویڈیو آن ڈیمانڈ) ، آئی پی ٹی وی اور دوسری ویلیو ایڈڈسروسزسے مناسب قیمت پر مستفید ہو سکیں گے۔ یاد رہے کہ کمپنی وائی میکس کا مربوط نظام قائم کرنے کیلیے پاکستان کے طول و عرض میں تقریباً ساڑھے ۵ہزار کلومیٹر آپٹیکل فائبر کیبل بچھا رہی ہے۔ وطین ٹیلی کام کے طارق ملک کے بلاگ کے مطابق اُنکی کمپنی اپنا کام تیزرفتاری سے مکمل کر رہی ہے تاکہ مقررکردہ وقت پر وائی میکس کی شروعات کو یقینی بنایا جا سکے۔

وائی میکس کا ایک خاکہ

جو قارئین وائی میکس کی اصطلاح اور طریقہ کار سے آشنا نہیں انہیں بتاتے چلیں کہ وائی میکس ورلڈ وائیڈ انٹر پورٹیبلیٹی برائے مائیکرو ویو ایکسس(Worldwide Interportablity For Microwave Access) کا مخفف ہے۔یہ نظام IEEE 802.16نامی وائرلیس سٹینڈرڈ استعمال کرتا ہے۔اسکی بانی تنظیم وائی میکس فورم (WiMax Forum) نے یہ نظام جون ۲۰۰۱میں متعارف کروایا تھا۔وائی میکس فورم کی مقرر کردہ تعریف کے مطابق ’’وائی میکس وائرلیس معیارات کو بنیاد بنا کر ایسی ٹیکنالوجی کا نام ہے، جو آخری سرے پر واقع صارف تک وائرلیس براڈبینڈ (تیزرفتار انٹرنیٹ)ڈی ایس ایل یا کیبل نیٹ کے برخلاف آسانی اور کفایت سے پہنچائے۔‘‘وائی میکس کے بارے میں مزید آپ وکی پیڈیا کے اس مضمون میں پڑھ سکتے ہیں۔

11 آراء دي گئيں

1 افتخار اجمل بھوپال بتاريخ: بدھ، 29 نومبر 2006 بوقت: 2:59 am

اطلاع کا شکریہ ۔ میں اس کی انظار میں ھوں

2 محمد شاکر عزیز بتاريخ: بدھ، 29 نومبر 2006 بوقت: 4:19 am

ہممممممممم۔
اگر سستی ہوئی اور میں اسے افورڈ کرسکا تو اس پر منتقل ہونا پسند کروں گا۔
لیکن لگتا نہیں کہ ایسا ہو۔
کم از کم خرچ 15 سو سے زیادہ ہی ہوگا فی ماہ۔
خیر دیکھتے ہیں۔
وسلام

3 ساجداقبال بتاريخ: بدھ، 29 نومبر 2006 بوقت: 4:46 am

السلام علیکم!
افتخاراجمل اور شاکر بھائی آپ دونوں کی آراء کا بہت شکریہ۔ یقینا یہ ٹیکنالوجی سستی ہی ہوگی اور اگر پندرہ سو میں مناسب بینڈوڈتھ کے ساتھ آپ کو یہ سہولیات میسر آئیں تو میرے خیال میں مہنگا سودا نہیں۔

4 فرہاد بتاريخ: ہفتہ، 2 دسمبر 2006 بوقت: 1:36 am

ساجد آپکا تبصرہ جو آپ نے نعمان کے بلاگ پر کیا تھا نعمان نے ڈیلیٹ کر دیا ہے۔ کیا آپ کے پاس اس تبصرے کی کاپی ہے؟ اگر آپ کو یاد ہے کہ کیا لکھا تھا تو پلیز یہاں لکھ دیں مجھے اس کی ضرورت ہے۔

5 ساجداقبال بتاريخ: ہفتہ، 2 دسمبر 2006 بوقت: 7:26 am

بھائی جی انہوں نے ڈیلیٹ کر دیا ہے تو ان کی مرضی۔ میں نے اسمیں ،جہانتک مجھے یاد ہے کچھ ایسا نہیں کہا تھا کہ وہ قابل اعتراض ہو۔ بہرحال میرے پاس کوئی کاپی نہیں اور مجھے کچھ خاص یاد بھی نہیں۔

6 asma بتاريخ: ہفتہ، 2 دسمبر 2006 بوقت: 8:29 pm

Well It really would be a nice add up … let’s see how watee comes up with Wi-Max …. and yes it sure do would be costly … it’s Pakistan … so … expect it to be costly …!

Nice post!

7 ساجداقبال بتاريخ: اتوار، 3 دسمبر 2006 بوقت: 9:59 am

اسماء آپ کی رائے کا شکریہ۔۔۔ویسے تو یہ ٹیکنالوجی اسی مقصد کیلیے ڈیویلپ کی گئی ہے تاکہ ڈیٹا کی ترسیل کو سہل اور قیمت کے لحاظ سے کفایتی بنایا جائے لیکن آپ کا خیال درست ہے۔پاکستان میں اکثر گنگا الٹی ہی بہتی ہے۔ جیسے شروع میں ڈائل اپ کنکشن دینے والی آئی ایس پیز نے عوام کو لوٹا تھا، ایسے اس نئی سروس کو فراہم کرنے والوں سے بھی بھلائی کی توقع کم ہے۔

8 غلام حسین نیازی بتاريخ: منگل، 2 اکتوبر 2007 بوقت: 7:10 am

میں طریقہ کار کو نہیں جانتا برائے مہربانی مجھے بھی شامل کرلیں بہت مشکور وممنون ہوں گا

9 ساجد اقبال بتاريخ: منگل، 2 اکتوبر 2007 بوقت: 11:02 am

غلام حسین بھائی آپکی مراد کس چیز میں شامل کرنے سے ہے؟ سمجھنے سے قاصر ہوں، برائے مہربانی وضاحت فرمائیے۔

10 غلام حسین نیازی بتاريخ: بدھ، 3 اکتوبر 2007 بوقت: 6:31 am

میں معذرت چاہتا ہوں شاید یہاں یہ سوال نہیں کرنا چاہیے لیکن میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ میں نہیں جانتا ۔ ایک بار پھر معذرت ۔۔۔۔۔۔۔۔عرض یہ ہے کہ ہوم پیج پر میں اپنی آرا دینے سے متعلق جاننا چاہتا ہوں کہ مجھے کیا کرنا ہوگا میں بھی ہوم پیج پر اپنے بھائیوں کی طرف لکھی گئی رائے اور ان کے مختلف موضوعات پر لکھے گئے نوٹس پڑھ کر رائے دینا چاہتا ہوں
ساجد بھائی میں امید کرتا ہوں کہ آپ میری ضرور مدد فرمائیں گے

11 ساجد اقبال بتاريخ: بدھ، 3 اکتوبر 2007 بوقت: 12:53 pm

غلام حسین نیازی بھائی، ہوم پیج پر رائے دینا ممکن نہیں۔ کسی تحریر پر ہی رائے دی جاسکتی ہے۔ وہاں سائیڈبار میں جو آراء نظر آتی ہیں، وہ دراصل انہی تحاریر پر دی گئی آراء ہوتی ہیں۔

اپني رائے ديں

Englishاردو

Englishاردو