آج براؤزنگ کرتے ہوئے میں ٹیلی نار کی اردو سائٹ “ٹیلی نار رابطہ سینٹر” پر پہنچ گیا۔ مجھے صحیح معلوم نہیں لیکن جہانتک میرا خیال ہے ابھی تک اسے باقاعدہ لانچ نہیں کیا گیا ہے، کیونکہ میں کسی باقاعدہ یو آریل کے زریعے اس صفحہ پر نہیں پہنچا بلکہ آئی پی ایڈریس کے زریعے یہانتک رسائی کے قابل ہوا۔ ٹیلی نار اور ڈی جوس کی آفیشل سائٹس پر بھی اسکا کوئی ربط موجود نہیں ۔۔۔۔یا۔۔۔۔ کم ازکم مجھے یہ ربط وہاں نظر نہیں آیا۔ رابطہ سینٹر کا سکرین شاٹ نیچے ملاحظہ کجیے:

ایک اور موبائل آپریٹر کیطرف سے اردو سائٹ شروع کرنا خوش آئند ہے، لیکن موبی لنک کی اردو سائٹ کے برخلاف اس سائٹ میں سارا مواد تصویری اردو کی شکل میں ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ایسے وقت میں جب دنیا کی چھوٹی سے چھوٹی زبان کی ویب سائٹس یونیکوڈ کی بدولت تحریری شکل میں بنائی جا رہی ہیں، ایک بڑا ادارہ اردو کی ویب سائٹ تصاویری شکل میں بنا رہا ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں ![]()
4 آراء دي گئيں
اردو کا سب سے بڑا ادارہ جنگ اپنی ویب ساءٹ عرصے تک تصویری طریقے پر چلاتا رہا اب ٹیکسٹ پر مبنی بنائی بھی تو کوالٹی بے کار..ایک دھیلا اس پر ریسرچ میں خرچ کبھی نہ کیا ہوگا تو آپ ایک ایسے ادارے سے توقع کیوں رکھیں جس کا وطن یہ نہ ذبان.
احمد، آپ کا کہنا بالکل بجا ہے۔ لیکن بحیثیت ایک عالمی معیار کی کمپنی کے مجھے ان سے معیاری کام کی اُمید تھی۔
میرا خیال ہے تحریری ویب سائٹ بنانا ان ویب سائٹ کے لئے زیادہ ضروری ہو گیا ہے جو بہت جلد اپڈیٹ ہوتی رہتی ہیں جیسے خبروں وغیرہ کی ویب سائٹس۔ اس کے علاوہ میرے خیال میں تصویری ویب سائٹ بنانا زیادہ آسان ہے بنسبت تحریری ویب سائٹ کے۔ ٹیلی نار والوں نے بھی جلدی میں تصویری ویب سائٹ ہی بنا دی ڈالی ہے۔
ممکن ہے آپکی بات صحیح ہو. میرا اپنا نقطہ نظر یہ ہے کہ چونکہ ڈیزائن میں گرافکس کیساتھ ساتھ ٹائپوگرافی کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے جو اردو کے کیس میں فونٹس کی کمیابی کیوجہ سے ممکن نہیں، اسلئے انہوں نے تصویری اردو پر اکتفا کیا.
اپني رائے ديں