
مائیکروسافٹ وسٹا کے بعد ونڈوز کا اگلا ورژن 2009ء کے اواخر میں ریلیز کرنے کا خیال رکھتا ہے۔ نئے ورژن کا خفیہ نام(کوڈنیم) ’’ویانا‘‘ رکھا گیا ہے۔ واضح رہے وسٹا کا خفیہ نام ’’لانگ ہارن‘‘تھا۔نیا ورژن وسٹا کی ریلیز کے ڈھائی سال بعد جاری کیا جائیگا، جبکہ وسٹا ، ونڈوز ایکس پی سے پانچ سال بعد ریلیر کی گئی۔وہ کئی اپ ڈیٹس جو وسٹا میں کی جانی تھیں، اس وجہ سے نہ کی جاسکیں کیونکہ مائیکروسافٹ کا ساری توجہ وسٹا کی سیکیورٹی کی طرف منتقل ہو گئی تھی۔ اب یہ تمام اپ ڈیٹس ویانا میں دستیاب ہوں گی۔ویانا میں ایک نیا فائل سسٹم اور ایک نیا صارف انٹرفیس(جس میں روایتی سٹارٹ مینو اور ٹول بار نہیں ہونگے) شامل ہوگا۔ اصل میں دونوں اپ ڈیٹس وسٹا میں کی جانی تھیں لیکن سیکیورٹی وجوہات آڑے آگئیں۔
سب سے بڑا فرق نئے خدمتگار نظام (آپریٹنگ سسٹم) میں یہ ہو گا کہ ونڈوز پر چلنے والے روایتی پروگرام اس نئے خدمتگار نظام کے ساتھ نہیں چلیں گے یعنی کمپیٹیبل (Compatible) نہیں ہونگے۔اس خوبی یا خامی کی بدولت مائیکروسافٹ مقررہ وقت پر ویانا مارکیٹ میں لا سکے گا، لیکن یہ ممکن نہیں کہ صارفین کسی ایسے قدم سے خوش ہوں، جس کی بدولت انہیں اپنے تمام سافٹ وئیرز اس نئے خدمتگار نظام کے ساتھ چلانے کیلیے اپ گریڈ کرنے پڑیں۔فی الحال یہ بھی افواہیں کہ مائیکروسافٹ کوئی ایسی سہولت شامل کرنے پر غور کر رہی ہے جسکی بدولت صارف پرانے پروگرام بھی ویانا پر چلانے کے قابل ہوں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ونڈوز کے پروگرام ’’وائن‘‘نامی اطلاقیے(ایپلیکیشن) کے زریعے لینکس پر تو چلائے جاسکتے ہیں، پھر ونڈوز کے پروگرام نئی ونڈوز پر کیوں نہیں؟
2 آراء دي گئيں
میرے خیال میں مائیکرو سافٹ کا یہ قدم درست نہیں ہے کیونکہ جو درمیانے طبقے کے لوگ جو کمپیوٹر کے گرافکس پروگرام میں کام کرتے ہیں وہ ایسی کسی بھی پروڈکٹ پر راضی نہیں ہوں گے کہ جس میں ان کے مطلوبہ سافٹ وئیر نہ چلیں
مائیکروسافٹ اپنے بڑے پن کا ناجائز فائدہ اُٹھاتا رہتا ہے اور یہ اسی کی ایک کڑی ہے۔ اگرچہ اسے دو دن پہلے ڈیڑھ ارب ڈالر کا جرمانہ پڑا ہے لیکن اپنی حرکتوں سے اس نے باز نہیں آنا۔
اپني رائے ديں