108 سالہ بلاگر

Olive Riley

ہم میں سے اکثر بلاگرز (خصوصاً اردو بلاگرز) پہلے بڑے شوق سے بلاگ بنا لیتے ہیں اور پھر کچھ عرصہ بعد بلاگ قصہءِ پارینہ بن جاتا ہے۔ جو کچھ نہ کچھ لکھتے ہیں، وہ بھی بڑی کم ہمتی سے۔ :razz: لیکن آسٹریلیا کی 108 سالہ خاتون Olive Riley اس عمر میں بھی باقاعدگی سے اپنے دوست Mike Rubbo کی مدد سے بلاگنگ کرتی ہیں۔ اب بتائیے۔۔۔بلاگنگ سے بھاگیں گے؟ :lol:

13 آراء دي گئيں

1 میرا پاکستان بتاريخ: جمعۃ المبارک، 21 ستمبر 2007 بوقت: 10:14 pm

صرف بلاگ بنا کر ترک کرنا ہی نہیں‌ہم لوگ ہر کام ادھورا چھوڑنے کا عادی ہوچکے ہیں۔ آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑاییے آپ کو بہت سارے لوگ ایسے ملیں‌ گے جنہوں نے کئی کام ذوق و شوق سے شروع کئے مگر کچھ عرصے بعد غائب ہوگئے۔ حتی کہ ہم مذہبی کاموں کو بہی ادھورا چھوڑتے ہوئے خوف نہیں کھاتے۔ مثلا ہم مسجد کی تعمیر بڑے زور و شور سے کرتے ہیں مگر بعد میں‌اس کی تکمیل ایک خواب بن جاتی ہے۔ ہم ادارے بناتے ہیں، افتتاح کرتے ہیں پھر مڑ کو ان کی خبر نہیں لیتے۔ ہم کالج میں‌بڑے شوق سے داخلہ لیتے ہیں‌مگر تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں۔ کام میں‌تسلسل کامیابی کیلیے ضروری ہے جو ہم میں کم ہو چکا ہے۔

2 پاکستانی بتاريخ: ہفتہ، 22 ستمبر 2007 بوقت: 12:50 am

بالکل صحیح کیا افضل صاحب نے، کیونکہ کوئی کام شروع کرنا مسلہ نہیں بلکہ اسے پایہ تکمیل تک پہنچانا مسلہ ہے۔ اور ہم ادھورے لوگ ہر کام ادھورا ہی کرتے ہیں۔

3 فیروز بتاريخ: ہفتہ، 22 ستمبر 2007 بوقت: 6:07 am

دراصل ہر کام کوئی نہ لوئی وسیلے یا ستھی کی مدد سے “یہ تکمیل تک پہنچ جاتا ہے۔ہمارے وسائل کم اور مسائل زیادہ ہوتے ہیں
ہمارے اتنے سارے اپنے کام رزتہ داروں کے کام پھر غمی خوشی میں حصہ لینا اوپر سے بیماریاں الغرض وقت کم اور کام زیادہ ہوتے ہیں تو اسے حالات میں شوق کے لئے کوئی ٹائم نہیں ہوتا۔

نفسیاتی اور جسمانی طور پر ہم لوگ انتھائی تھکے اور کمزور ہوجاتے ہیں۔
یورپ اور معربی اقوام ان تمام لوازمات سے مبرا ہوتے ہیں۔لھذا ان کے پاس وقت بچتا ہے۔پھر اس فاضل وقت کو وہ لوگ کسی نہ کسہ مشغلے میں اڑا دیتے ہیں۔

4 فیروز بتاريخ: ہفتہ، 22 ستمبر 2007 بوقت: 6:09 am

یار ساجد اوپر لکھائی اندھیرے میں کی ہے لھذا غلطیان کی ہے۔۔معزرت قبول کریں۔

5 اجمل بتاريخ: ہفتہ، 22 ستمبر 2007 بوقت: 4:00 pm

پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں سو سال کے قریب عمر والے لوگ نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ میں دو ایسے پاکستانیوں کو جانتا ہوں جن میں سے ایک اب امریکن بھی ہے ۔ ایک کی عمر 60 سال کے لگ بھگ ہے اور وہ انگریزی مین بلاگ لکھتے ہیں ۔ وہ آزاد جموں کشمیر کے علاقہ کے رہنے والے ہیں اور جائے پیدائش سوگر “ریاست بھوپال” ہے ۔ ان کا بلاگ ہے
http://saugoree.blogspot.com
دوسرا میں ہوں میری عمر اب 70 سال ہے میں انگریزی میں بلاگ تین سال سے اور اردو میں سوا دو سال سے لکھ رہا ہوں
انگریزی بلاگ ۔ ۔ ۔ http://iabhopal.wordpress.com
اردو بلاگ ۔ ۔ ۔ http://iftikharajmal.wordpress.com
ویسے ہماری قوم کی حالت تو میرا پاکستان نے بیان کی ہے وہ وہی ہے ۔

6 جانان گل بتاريخ: ہفتہ، 22 ستمبر 2007 بوقت: 4:40 pm

108 سالہ خاتون؟ اور بلاگنگ؟ :shock: دل ویکھنڑ جوگا ئے سوہنی دا :lol:

7 ساجد اقبال بتاريخ: ہفتہ، 22 ستمبر 2007 بوقت: 11:15 pm

السلام علیکم،
سب دوستوں، بزرگوں کا رائے دینے کا شکریہ۔
میرا پاکستان: مجھ سمیت تمام قوم کا یہی حال ہے۔ آپکا کہنا بالکل درست ہے۔
فیروز: بھائی آپکی کئی باتیں املا میں غلطی کیوجہ سے میرے سر پر سے گزر گئیں۔ :razz:
افتخاراجمل: انکل آپکی مستقل مزاجی کے ہم قائل ہیں۔ اردو بلاگنگ مین شاید ہی کوئی آپ کیطرح مستقل مزاج ہوں۔ یہ کشمیری صاحب کا احوال پڑھ کر خوشی ہوئی۔

8 ماوراء بتاريخ: اتوار، 23 ستمبر 2007 بوقت: 2:54 am

اجمل انکل کی بات درست ہے کہ ہمارے ہاں سو سال کے قریب عمر والے لوگ کم ہی ہیں۔ اور دوسرا ہمارے ہاں بڑی عمر کے بہت ہی کم لوگ کمپیوٹر کا استعمال کرتے ہیں۔ ویسے عبدالرحمن سید صاحب بھی کچھ دن پہلے بلاگنگ کی طرف آئے ہیں۔ ان کی عمر 57 سال ہے۔
http://www.armansyed.amisun.pk/

9 ساجد اقبال بتاريخ: اتوار، 23 ستمبر 2007 بوقت: 2:27 pm

شکریہ ماوراء۔ یعنی ہمارے بزرگان، نوجوانوں سے ذیادہ فعال ہیں بلاگنگ کے معاملے میں۔ :eek:

10 ابوشامل بتاريخ: اتوار، 23 ستمبر 2007 بوقت: 9:32 pm

بلاگ تو خیر ایک چھوٹا سا شعبہ ہے، اصل میں ہمیں روٹی کپڑے اور مکان کے چکر میں اتنا پھنسا دیا گیا ہے کہ ہم وہ کام کر ہی نہیں سکتے جس کا ہمیں بہت شوق ہوتا ہے۔ پہلے جب فرصت کے زمانے ہوتے تھے تو ہر شخص کوئی نہ کوئی مشغلہ ضرور رکھتا تھا لیکن اب شاید ہی کوئی شخص ایسا ملتا ہے جو کسی صحت مند مشغلے کا ذوق رکھتا ہو۔ بہت سارے کام تو میں بھی کرنا چاہتا ہوں لیکن “اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا” یہاں غم کو خوامخواہ جمع کے صیغے میں استعمال کیا گیا ہے حالانکہ اسے واحد کے طور پر “غم روزگار” کے لیے استعمال ہونا چاہیے تھا۔ اردو وکیپیڈيا پر بہت لکھا، اب پہلے جیسی فرصت ہی نہیں رہی، اس لیے کافی عرصے سے کئی منصوبے pending میں پڑے ہوئے ہیں۔ بلاگ بھی شروع کیا ہے لیکن ہفتہ بھر ہو گیا کوئی قابل ذکر تحریر نہیں لکھ سکا۔ دعا کریں اللہ ہمارے وقت میں برکت دے۔

11 ساجد اقبال بتاريخ: پير، 24 ستمبر 2007 بوقت: 12:18 pm

رائے دینے کا شکریہ ابوشامل بھائی۔ جو بھی ہو تھوڑا بہت وقت نکال لیا کریں بلاگنگ کیلیے۔ ہم آپکی تحریروں کے منتظر رہینگے۔

12 غلام حسین نیازی بتاريخ: بدھ، 3 اکتوبر 2007 بوقت: 6:56 am

ساجد بھائی السلام علیکم ! میں نے یہ صفحہ ڈھونڈ لیا ہے اس پر میں نے مختلف موضوعات پر اپنے بھائیوں کی رائے دیکھی ہے ۔ساجد بھائی ہرکوئی اپنا دکھڑا رو رہا ہے اور لوگ کریں بھی کیا معاشی واخلاقی وتہذیبی اور دین سے دوری یہاں تک مملکتِ خداداد پاکستان سے محبت بھی کم جیسے مسائل ومشکلات کا سامنا ہرکوئی کررہا ہے ہمارے ٹی وی چینلز پر چلنے والے پروگرامز اور ان پر کی جانے والی گفتگو میں استعمال کیے جانے والے الفاظ تک میں اردو کے بجائے ہندی زبان کا استعمال بڑھتا جارہا ہے اللہ رحم کرے اور ہمیں سچا پکا مسلمان اور کھرا پاکستانی بننے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے ارد گرد رہنے والے افراد سے محبت کرنے کا جذبہ عطا فرمائے آمین ایک چھوٹی سے مشکل ہے کہ یہ ٹائپ کرتے وقت بائیں طرف کچھ عبارت لکھتے ہوئے نظر نہیں اآتی کیونکہ بکس چھوٹا نظرآتاہے اس مسئلے کا کیا حل ہے ؟ والسلام مع الاکرام

13 عبدالرحمن سید بتاريخ: جمعرات، 28 اگست 2008 بوقت: 11:17 pm

میرے بلاگ میں میں نے اپنی کوشش تو بہت کی ھے، لیکن میں نے یہ محسوس کیا ھے کہ ان بلاگ کی طرف لوگوں کا پڑھنے کا رجحان بہت ھی کم ھے، اس لئے شاید اس طرف کوئی نہیں آتا ھے،!!!!

اپني رائے ديں

Englishاردو

Englishاردو