موبائل کال سے موت

وطن عزیز میں جہاں وصی ظفر جیسے ’’وزیر قانون‘‘ ہو سکتا ہے، وہاں اگر کسی موبائل کال سے کسی کی موت ہو جائے تو اچنبھے کی بات نہیں۔ خیر یہ تو ازراہِ تفنن لکھ دیا، لیکن یقیناً آپ میرے اشارے کو سمجھ گئے ہوں گے۔ اگر نہیں تو ہم بتائے دیتے ہیں۔پرسوں سے ایک ایس ایم ایس پورے پاکستان میں گردش کر رہا ہے جس کی رو سے کچھ مخصوص نمبر(جس کی تفصیل مختلف لوگوں نے مختلف روایت کی) سے موبائل پر کال وصول کرنے کی صورت میں کوئی وائرس(یعنی اب سافٹ ویر وائرس موبائل سے باہر آگئے ہیں) آپ کی جان لے سکتا ہے۔ پی ٹی اے نے اسے افواہ نہیں بلکہ مذاق قرار دیا ہے۔ وارد ٹیلی کام نے کل اپنے صارفین کو یہ پیغام بھی بھجوایا کہ یہ محض افواہ سے زیادہ کچھ نہیں۔ کئی لوگوں نے تو اس افواہ کو سنجیدگی سے لیا اور دوستوں رشتہ داروں کو بڑے خلوص سے یہ ایس ایم ایس بھجوایا۔ ہماری کمپنی کی ایک ایف ایم سٹیشن کے ساتھ ایس ایم ایس سروس چلتی ہے، اس کی لاگز میں، میں نے ایک میسج پڑھا جس میں ایف ایم کے پریزنٹر کو بڑے خلوص سے مشورہ دیا جا رہا تھا کہ کسی ’’ایسی ویسی‘‘ کال سے محتاط رہیں۔ مجھے امید ہے پریزنٹر نے اس میسج پر کوئی توجہ نہیں دی ہوگی۔ ۔ ایسا ہی ایک میسج، جو کسی نے بجائے کسی شخص کو ’’سسٹم‘‘ کو بھجوانے کی کوشش کی۔

00919224319 0028800261 agar in nos say call aye tau receve mat karna ok.. Details: agar
app receve kartay ho tau naak aur muun say bleeding hoti hei aur | 0|
usi waqt death ho jati hei, teen waqayat ho chukay hein aisay. So plz dont recive.
Remember that..| 0|

ویسے سوچا جائے تو جس شخص نے اس افواہ کا آغاز کیا ہوگا، وہ تو ہنس ہنس کر بے حال ہو چکا ہوگا۔ حکومتوں کا عوام کو بیوقوف بنانے کے بعد کسی فردِ واحد کا عوام کو بیوقوف بنانے کا یہ سب سے بڑا واقعہ تھا۔ ویسے دو سال پہلے کشمیر اور سرحد کے شدید زلزلہ سے پہلے صوبہ سرحد میں بھی ایک افواہ پھیلی تھی کہ جی زلزلہ آرہا ہے، فلانے علاقے میں آچکا ہے اور اب آپکے علاقے کا رُخ کررہا ہے۔ لوگ یہ افواہ سُن کر پوری رات گھروں سے باہر خوار ہوتے رہے۔ اللہ ہی ہمیں ہدایت دے۔

11 آراء دي گئيں

1 جہانزیب بتاريخ: ہفتہ، 14 اپريل 2007 بوقت: 7:15 am

حد ہی ہو گئی یعنی کہ لوگوں نےعقل کا استعمال کب سے بند کر دیا ہے، اب یہ ایک نیا ٹرینڈ شروع ہو جائے گا . ویسے جب میں پاکستان میں کال کرتا ہوں تو میرا نمبر چار ہندسوں کا آتا ہے اور میں پریشان ہو رہا تھا میری بیگم کال کیوں نہیں اُٹھا رہی .. لول ..

2 شعیب صفدر بتاريخ: ہفتہ، 14 اپريل 2007 بوقت: 8:28 am

ویسے ایسی باتیں معاشرے کی بیماری کی نشاندہی دیتی ہیں!! اور مجموعی طور پر ایک جاہل اور ناسمجھ قوم کا تاثر دیتی ہے!!! جو اچھا نہیں!!!
جہانزیب یار بُری ہوئی تمہارے ساتھ!!!!

3 ساجد اقبال بتاريخ: ہفتہ، 14 اپريل 2007 بوقت: 10:05 am

ویسے جہانزیب بھائی اوپر دیے گئے ایس ایم ایس کو پڑھیں تو نمبر دونوں ہی انٹرنیشل ہیں۔ کوڈ سے جہانتک میں اندازہ لگا سکتا ہوں ایک انڈیا کا ہے اور دوسرا کینیڈا کا۔۔۔شاید اسی وجہ سے آپ کی بیگم ڈر گئی ہوں۔

4 اجمل بتاريخ: ہفتہ، 14 اپريل 2007 بوقت: 11:44 am

جہانزیب اشرف صاحب ۔ آپ شائد امریکہ میں رہ کر بھول گئے ہیں ۔ ہم نے تو عام طور پر اپنے اساتذہ کو کہتے سنا کہ ہماری قوم کے زیادہ تر لوگ عقل کے پیچھے لٹھ لے کر پھرتے ہیں کہ کہیں قریب نہ آ جائے ۔
شعیب صفدر صاحب نے بالکل ٹھیک کہا ہے ۔

5 بدتمیز بتاريخ: ہفتہ، 14 اپريل 2007 بوقت: 2:44 pm

یار ویسے یہ مزے کا کام ہوا ہے. پاکستانی قوم اس قدر بےوقوف ہے اس کا علم نہیں تھا. اور یہ لٹھے لے کر پھرنے والی بات نے کیا ہنسایا ہے.

6 جہانزیب بتاريخ: ہفتہ، 14 اپريل 2007 بوقت: 6:16 pm

ساجد بھائی ایک تو واقعی انڈیا کا نمبر ہے… .. اوہ ہو تو یہاں بھی را کا ہاتھ تھا … مذاق … البتہ دوسرا نمبر امریکہ یا کنیڈا میں سے کسی کا نہیں ہے کیونکہ امریکہ اور کنیڈا دونوں کا ڈائلنگ کوڈ 1 ہے …. 2 کس ملک کا ہے؟ اس بارے میں مجھے کوئی علم نہیں کہیں میکسیکو نہ ہو …. اب یہ دن بھی آنا تھے کہ میکسکن بھی ہم سے مذاق کرنے لگے … .

7 ساجد اقبال بتاريخ: اتوار، 15 اپريل 2007 بوقت: 6:43 am

بدتمیز بھائی، جہانتک مجھے علم ہے آپ بھی پاکستانی قوم سے تعلق رکھتے ہیں، پھر آپ کو اپنی بیوقوفیوں کا کیوں نہیں پتہ؟ :)
جہانزیب بھائی، یہ تو واقعی سوچنے والی بات ہے۔۔۔کیا میکسیکن اتنی ترقی کر گئے۔؟۔ہم سے تو آگے ہی ہونگے۔
آج ایک نیا لطیفہ دیکھا، کسی گھٹیا اُردو اخبار میں ایک تصویر چھپی تھی جسمیں کوئی صاحب جنہیں کوریوگرافر کہا گیا تھا، موبائل بلاسٹ ہو جانے سے بے ہوش ہوگئے تھے۔ اللہ جانے حقیقت کیا ہے، لیکن لوگ اب اس افواہ پر یقین کرنا شروع کردینگے۔

8 حمزہ بتاريخ: پير، 23 اپريل 2007 بوقت: 6:41 am

موبائل فون وائرس
نکلنا خلد سے آدم کا سننے آیا تھا لیکن— بڑے بے آبرو ھوکر تیرے کوچے سے ہم نکلے

ارے کم بختو ! کسی سردار جی کیوں نہیں پوچھتے،

9 ھیلئ-کابل بتاريخ: پير، 23 اپريل 2007 بوقت: 6:46 am

حمزہ-وائرس۔
لو کر لو بات!!!!
بر بازار مکاراں، کسب آبی دارد۔

10 حمزہ-کابل،شاہ شہید بتاريخ: پير، 23 اپريل 2007 بوقت: 7:04 am

حمزہ-کابل،شاہ شہید
ھیلئ جان،مسج کہ نوشتھ میکردی،بر خیال ام وائرس ھنوز ھم سر ات اثر داشت۔ بخاطر کہ در عنوان ” حمزہ وائرس” نوشتھ کردہ بودی۔

یھ افواہ تو ادھر کابل میں اب بھی گردش کر رہی ہے۔

11 ھیلئ-کابل بتاريخ: پير، 23 اپريل 2007 بوقت: 7:12 am

حمزہ جان،چرا خود را ھفتھ فہم معارفی میکنیند؟
یھ مسلھ تو پچھلے ھفتے حل ھو چکی تھی۔

مقصد ام دل آزاری ات ھر گز نھ بود۔ مذاق میکردم

اپني رائے ديں

Englishاردو

Englishاردو