جیسا کہ قدیر کی تحریر سے آپکو معلوم ہو ہی چکا ہوگا کہ پُرمزاح آن لائن اخبار روزنامہ ”بوریت“ کی اشاعت روک دی گئی ہے۔ بقول شارق مستقیم یہ غم روزگار کیوجہ سےکرنا پڑا۔ لیکن میری طرح کئی قارئین ان سے اتفاق نہيں کرینگے۔ میرا سوال ہے کہ کیا شارق غمِ روزگار کے سلسلے میں کالا پانی جارہے ہیں، جہاں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی رسائی نہیں؟؟؟
بوریت سے میرا تعارف سال پہلے ہوا اور تبھی سے میں اسکا مستقل قاری ہوں۔ میری وجہ سے میرے باس سمیت تمام کولیگ اسکی خبروں میں دلچسپی لیتے ہیں۔

لیکن اب جب یہ خبر پڑھی ہے تو حقیقتاً مجھے بہت دکھ ہوا ہے۔ یہ نہ صرف انٹرنیٹ پر تحریری اردو(تصویری نہیں) کا نقصان ہے بلکہ کئی قارئین کیلیےذہنی تفریح کا ایک ذریعہ بھی چلاگیا۔ تحریری اردو کیلیے شارق کی خدمات قابلِ ذکر ہیں، جنمیں اردوسپورٹ انسٹالر، اردو کیبورڈ ٹیوٹر، ان پیج ٹو یونیکوڈ کنورٹر، اردو جاوا سکرپٹ ایڈیٹر اور دوسری مفید اردو سروسز قابل ذکر ہیں۔
ہمارا صرف ایک ہی مطالبہ ہے۔۔۔۔”بوریت“ کو واپس لاؤ۔ ورنہ ہم ”بوریت بچاؤ“ تحریک شروع کردینگے۔

3 آراء دي گئيں
بالکل اس کو واپس آنا چاہیے.
شارق صاحب بظاہر کہیں نئے محاذ کے لئے کمر کس چکے ہیں شائد وقت کی کمی اہم مسئلہ ہے نہ کہ انٹرنیٹ تک رسائی. ایک اور صاحب ہوتے جو ظفر کے نام سے خبریں لگاتے تھے وہ بھی کچھ عرصہ پہلے خاموشی سے داغ مفارقت دے گئے.
کیا کسی دوست کو علم ہے کہ شارق اسوقت کہاں ہیں؟ انکی الوداعی تحریر پر اسوقت گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے۔ اسی ہی بند کر دیں، کم از کم۔
اپني رائے ديں